شاعری اور اسلام

عصرِححاضر کی نوجوان نسل کا رجحان عام طور پر دو چیزوں پر ہے ایک سکرین (ٹیلی ویژن، موبائل-فون وغیرہ) اوردوسرا  شاعری. میرا آج کا مدعا دینِ اسلام اور شاعری ہے. امید ہے کہ میں اس پر سیر حاصل گفتگو کر سکوں گا.

پو چھتے ہیں وہ کہ شاعری کیا ہے

ہاۓ ایسی بھی سادگی کیا ہے

شاعری لفظ شعور سے نکلا ہے جس کے معنی کسی چیز کو جانناجبکہ اصطلاح میں اس کے معنی  ایسا کلام جو کسی واقعے یا موضوع کی طرف اشارہ کرتا ہے.

قرآن و احادیث اور شاعری 

  1. اﷲ تبارک وتعالیٰ نے اچھے اور برے کلام کے اعتبار سے شعراء کی دو اقسام بیان کی ہیں جو درج ذیل ہیں:

وَالشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَo اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِیْ کُلِّ وَادٍ یَّهِیْمُوْنَo وَاَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَo اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَکَرُوا ﷲَ کَثِیْرًا وَّانْتَصَرُوْا مِنْم بَعْدِ مَا ظُلِمُوْاط وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَo

اور شاعروں کی پیروی بہکے ہوئے لوگ ہی کرتے ہیں۔ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ وہ (شعراء) ہر وادیٔ (خیال) میں (یونہی) سرگرداں پھرتے رہتے ہیں۔ (انہیں حق میں سچی دلچسپی اور سنجیدگی نہیں ہوتی بلکہ فقط لفظی و فکری جولانیوں میں مست اور خوش رہتے ہیں)۔ اور یہ کہ وہ (ایسی باتیں) کہتے ہیں جنہیں (خود) کرتے نہیں ہیں۔ سوائے ان (شعراء) کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہے (یعنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدح خواں بن گئے) اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد (ظالموں سے بزبانِ شعر) انتقام لیا (اور اپنے کلام کے ذریعے اسلام اور مظلوموں کا دفاع کیا بلکہ ان کاجوش بڑھایا) اور وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا عنقریب جان لیں گے کہ وہ (مرنے کے بعد) کونسی پلٹنے کی جگہ پلٹ کر جاتے ہیں۔

الشعراء، 26: 224-227

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِکْمَةً.

بے شک کچھ اشعار حکمت سے پُر ہوتے ہیں۔

بخاري، الصحیح، 5: 2276، رقم: 5793، دار ابن کثیر الیمامة بیروت

اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شاعری کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

هُوَ کَلَامٌ فَحَسَنُهٗ حَسَنٌ وَقَبِیْحُهُ قَبِیْحٌ.

یہ کلام ہے چنانچہ اچھا شعر، اچھا کلام اور برا شعر، برا کلام ہے۔

  1. أبو یعلی، المسند، 8: 200، رقم: 4760، دمشق: دار المأمون للتراث
  2. دار قطني، السنن، 4: 155، رقم: 1، بیروت: دار المعرفۃ

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس انجشہ نامی ایک لڑکا تھا جو دورانِ سفر اپنی سریلی آواز سے اونٹوں کو مست کیا کرتا تھا تاکہ وہ تیز رفتاری سے سفر طے کریں، ایک مرتبہ درانِ سفر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُسے قافلے میں شامل عورتوں کا خیال رکھنے کا حکم فرمایا کہ وہ اپنی سریلی آواز سے اونٹوں کو اتنا نہ دوڑائے جس سے خواتین کو تکلیف پہنچے۔ حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

کَانَ لِرَسُولِ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم حَادٍ حَسَنُ الصَّوْتِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم رُوَیْدًا یَا أَنْجَشَةُ لَا تَکْسِرِ الْقَوَارِیرَ یَعْنِي ضَعَفَةَ النِّسَاءِ.

رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک خوش الحان حدی خواں تھا، رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُسے فرمایا: اے انجشہ، شیشوں کو نہ توڑنا، یعنی کمزور عورتوں کو تکلیف نہ دینا۔

مسلم، الصحیح، 4: 1812، رقم: 2323، دار احیاء التراث العربي بیروت

لہٰذا اچھا اور معیاری کلام ہر مسلمان مرد و عورت، بوڑھے اور جوان کے لیے مباح وجائز ہے جبکہ لغو اور فحش کلام ہر مسلمان کے لیے ناجائز وحرام ہے۔


کمنٹ سیکشن میں اپنی آراء سے آگاہ کریں 

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

میر تقی میر