Posts

میر تقی میر

 تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا  خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا  ہنگامہ گرم کن جو دل ناصبور تھا  پیدا ہر ایک نالے سے شورنشور تھا  پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تیں  معلوم اب ہوا کہ بہت میں بھی دور تھا  آتش بلند دل کی نہ تھی ورنہ اے کلیم  یک شعلہ برق خرمن صد کوہ طور تھا  مجلس میں رات ایک ترے پر توے بغیر  کیا شمع کیا پتنگ ہر اک بے حضور تھا  اس فصل میں کہ گل کا گریباں بھی ہے ہوا  دیوانہ ہوگیا سو بہت ذی شعور تھا  منعم کے پاس قاقم و سنجاب تھا تو کیا  اس رند کی بھی رات گذر گئی جو عور تھا  ہم خاک میں ملے تو ملے لیکن اے سپہر  اس شوخ کو بھی راہ پہ لانا ضرور تھا  ق  کل پاؤں ایک کاسۂ سر پر جو آگیا  یکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا  کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر  میں بھی کبھو کسو کا سر پر غرور تھا  تھا وہ تو رشک حور بہشتی ہمیں میں میرؔ  سمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنے قصور تھا 

میر تقی میر

  پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے لگنے نہ دے بس ہو تو اس کے گوہر گوش کو بالے تک اس کو فلک چشم مہ و خور کی پتلی کا تارا جانے ہے آگے اس متکبر کے ہم خدا خدا کیا کرتے ہیں کب موجود خدا کو وہ مغرور خود آرا جانے ہے عاشق سا تو سادہ کوئی اور نہ ہوگا دنیا میں جی کے زیاں کو عشق میں اس کے اپنا وارا جانے ہے چارہ گری بیماری دل کی رسم شہر حسن نہیں ورنہ دلبر ناداں بھی اس درد کا چارہ جانے ہے کیا ہی شکار فریبی پر مغرور ہے وہ صیاد بچہ طائر اڑتے ہوا میں سارے اپنے اساریٰ جانے ہے مہر و وفا و لطف و عنایت ایک سے واقف ان میں نہیں اور تو سب کچھ طنز و کنایہ رمز و اشارہ جانے ہے عاشق تو مردہ ہے ہمیشہ جی اٹھتا ہے دیکھے اسے یار کے آجانے کو یکایک عمر دوبارہ جانے ہے کیا کیا فتنے سر پر اس کے لاتا ہے معشوق اپنا جس بے دل بے تاب و تواں کو عشق کا مارا جانے ہے رخنوں سے دیوار چمن کے منھ کو لے ہے چھپا یعنی ان سوراخوں کے ٹک رہنے کو سو کا نظارہ جانے ہے تشنۂ خوں ہے اپنا کتنا میرؔ بھی ناداں تلخی کش دمدار آب تیغ کو اس کے آب گوارا جانے ہے